مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق کسی بھی بیرونی مداخلت یا دباؤ سے نہ صرف حالات پیچیدہ ہوں گے بلکہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی دوبارہ بحالی کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہوگا۔
عباس عراقچی نے اتوار کے روز بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب فؤاد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سمندری انتظامی پالیسیوں پر کسی بیرونی فریق کو اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے کسی نئے نظام کو مسلط کرنے کی ہر کوشش صرف مزید پیچیدگیوں اور اس کی بحالی میں تاخیر کا سبب بنے گی۔
عراقچی نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے، جس کا مقصد عراق کی حکومت اور عوام کی جانب سے ایران کی حمایت اور جارحیت کی مذمت پر شکریہ ادا کرنا، نئی عراقی حکومت کو مبارک باد دینا، اور شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور تعزیتی تقریبات سے متعلق نجف، کربلا، سامراء اور کاظمین میں انتظامات پر مشاورت کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اور ایران و عراق کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے عراقی ہم منصب کو خطے کی تازہ ترین صورتحال، بالخصوص آبنائے ہرمز، لبنان اور جاری سفارتی رابطوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ باہمی مفاہمت کے مطابق آبنائے ہرمز آئندہ 30 روز کے اندر ایران کی نگرانی میں بحران سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس لوٹ آئے گی، اور اس حوالے سے کسی دوسرے ملک یا ادارے کی کوئی ذمہ داری یا اختیار نہیں ہوگا۔
عراقچی نے زور دیا کہ خطے کی سلامتی ایک ایسے نئے علاقائی نظام پر استوار ہونی چاہیے جس میں بیرونی طاقتوں کا کوئی کردار نہ ہو، اور انہوں نے عراق کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت خلیج فارس تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک، ایران اور عراق پر مشتمل علاقائی مذاکراتی نظام قائم کیا جائے۔
اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین نے کہا کہ عراق اور ایران کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی، مذہبی اور تزویراتی بنیادوں پر استوار ہیں، اور عراق کسی بھی ملک کے خلاف جنگ یا جارحیت کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ عراق نے ماضی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔
فؤاد حسین نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عراق کی تیل برآمدات کے لیے انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے علاقائی تنازعات کے خاتمے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک، ایران اور عراق پر مشتمل ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے نظام کی تجویز پیش کی اور کہا کہ بغداد ایسے علاقائی اجلاس کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عباس عراقچی نے بغداد پہنچنے کے بعد سابق کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المهندس کی یادگار پر بھی حاضری دی۔
آپ کا تبصرہ